Daily Hayat – روزنامہ حیات
Daily Hayat
زبان / LanguageEnglish
منگل، 22 ستمبر 2026•11:00 PMPKT
مفت ای پیپر
mumtazkhaksar6@gmail.com
+92 345 8886292
جملہ حقوق بحق روزنامہ حیات محفوظ ہیں۔
ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad
صفحہ اولمیرپورمیرپور میں یوم شہدائے جموں، شہدا کو خراج عقیدت

میرپور میں یوم شہدائے جموں، شہدا کو خراج عقیدتمیرپور

hammadkhaksar
hammadkhaksar
جمعہ، 6 نومبر، 2026
3 منٹ
ہمیں فالو کریں:WhatsAppFacebook

آج یوم شہدائے جموں کے موقع پر میرپور میں سیمینار اور تقریبات منعقد ہو رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر بھر میں ریلیاں نکال رہی ہے۔

میرپور میں یوم شہدائے جموں، شہدا کو خراج عقیدت
شیئر کریں:

میرپور سمیت آزاد کشمیر بھر میں آج چھ نومبر کو یوم شہدائے جموں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر شہر میں سیمینار اور تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں 1947 میں جموں میں شہید ہونے والے کشمیری مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے بھی آج پورے خطے اور بیرون ملک یوم شہدائے جموں منایا جا رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سیاسی امور کی چیئرپرسن فریال تالپور کی ہدایت پر ریلیاں، جلسے اور جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ مرکزی اجتماع مظفرآباد کے اولڈ سیکریٹریٹ میں ہوگا، جس کے بعد شرکا اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کے دفتر تک مارچ کر کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام یادداشت پیش کریں گے۔

ADاشتہار / AdvertisementGoogle Ad

پیپلز پارٹی کے مطابق یوم شہدائے جموں کے موقع پر کاروباری مراکز بند رہیں گے اور ملک بھر سمیت بیرون ملک مقیم کشمیری بھی اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کریں گے۔ پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات شوکت جاوید میر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پالیسیوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔

یوم شہدائے جموں ہر سال نومبر کے پہلے ہفتے میں جموں میں شہید ہونے والے کشمیری مسلمانوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مطابق اس واقعے میں تقریباً تین لاکھ افراد شہید ہوئے تھے۔ اس دن کی مناسبت سے مظفرآباد میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں، میرپور میں سیمینار منعقد ہوتے ہیں، جبکہ کوٹلی اور بھمبر میں دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق چھ نومبر 1947 کو تقریباً ستر ٹرکوں پر مشتمل قافلے سیالکوٹ کی جانب روانہ ہوئے تھے، لیکن انہیں سامبا کے قریب ویران علاقوں کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں مسلح گروہوں نے مسافروں پر حملہ کیا۔ تشدد کئی روز تک جاری رہا اور جموں کے مختلف محلوں میں بھی مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی اس دن کے موقع پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جاتی ہے اور شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جہاں جموں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے۔

پارٹی کے مطابق آج کی تقریبات میں شہدائے جموں کے ساتھ ساتھ شہدائے کشمیر اور پاکستان کی مسلح افواج کے شہدا کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ یوم شہدائے جموں کشمیریوں کے لیے ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سال اس موقع پر آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری شہدا کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔